Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لڑکی کو قرآنِ کریم کے سائے میں رخصت کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شادیوں کے موقع پر لڑکی کی رخصتی کے وقت یہ صورت دیکھنے میں آتی ہے کہ لڑکی کے سر پر قرآن پاک اٹھا کر اسے قرآن کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے، یہ عمل از روئے شرع درست ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

قرآن پاک بے شمار فوائد وبرکات کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ جس طرح اس کا پڑھنا، یاد کرنا، سننا، اس پر عمل کرنا اور اس میں غور و فکر کرنا حصول خیر و برکت کا سبب ہے، یونہی قرآن پاک کا اوراق پر مشتمل نسخہ بھی رحمت و برکت کا ذریعہ ہے، لہذا اس سے برکت حاصل کرنا جائز و مستحب عمل ہے۔ رخصتی کے وقت دلہن کے سر پر قرآن پاک اٹھا کر رخصت کرنے سے بھی یہی مقصود ہوتا ہے کہ اس عمل سے قرآن پاک کی برکت حاصل ہو جائے، لہذا مذکورہ نیت سے یہ عمل جائز و باعث ثواب ہو گا، مگر اس کے ساتھ چند امور ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.