Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تجارتی کاموں کے لئے ویب سائٹ بنا کر دینا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم شراب وغیرہ حرام چیزوں کی ویب سائٹ تو نہیں بناتے البتہ ایسا ہوتا ہے کہ کسٹمر کو ٹریڈنگ کے لئے کوئی ویب سائٹ بنا کر دے دیتے ہیں جس پر کسٹمر اپنی چیزیں رکھ کر بیچے گا، ہمیں اس بات کا علم نہیں ہو تا کہ وہ کن چیزوں کو اپنی ویب سائٹ پر لگائے گا اس میں ہم نہ تو چیزیں رکھتے ہیں نہ ہی کوئی تصویر و غیر والگاتے ہیں لیکن کسٹمر خود ہی بعد میں اس پر نا جائز تصاویر لگا دیتا ہے یا کوئی نا جائز پروڈکٹ بیچتا ہے تو کیا ہم بھی گنہگار ہوں گے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ کسٹمر کو فقط تجارتی کاموں کے لئے ویب سائٹ بنا کر دے رہے ہیں اور بناتے وقت بھی اس کا معصیت کے لئے استعمال ہونا متعین نہیں ہے کہ وہ اسے ناجائز پروڈکٹ کی فروخت کے لئے استعمال کرے گا لہذا آپ کا کسٹمر کو ایسی تجارتی ویب سائٹ بنا کر دینا، جائز ہے ، اب اگر وہ اپنی اس ویب سائٹ پر بے پردہ عورتوں کی تصاویر کے ذریعے پروڈکٹ کی تشہیر کرے یا کوئی ناجائز چیز بیچے تو آپ اس میں گنہگار نہیں ہوں گے ، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص چھری چاقو و غیر ہ عوام کو فروخت کرے جن کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ وہ اسے سبزی وغیرہ کاٹنے میں استعمال کریں گے یا مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کے لئے استعمال کریں گے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.