Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مضاربت کا نفع لینا کیسا جبکہ معلوم نہ ہو کہ مضارب نے شرعی اصولوں کا خیال رکھا یا نہیں؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے شرعی رہنمائی لے کر ایک شخص کو بطور مضاربت پیسے دیئے ، اس نے ان پیسوں کے ذریعے تجارت کی اور الحمد اللہ نفع ہوا، اب ہم مضاربت کو ختم کر رہے ہیں میرے لئے مضاربت کا نفع لینا کیسا ہے کیونکہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ مضارب نے تجارت شرعی اصولوں کے مطابق کی ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ نے اگر مضاربت کی تمام شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے عقد مضاربت کیا ہے تو آپ کے لئے مضاربت سے حاصل ہونے والا نفع لینا حلال ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ مضارب نے یہ نفع حرام طریقہ سے سمایا ہے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ اس نے یہ نفع حلال طریقہ سے کمایا ہے۔ در مختار میں ہے: ” دفع مالہ مضاربة لرجل جاهل جاز اخذ ربحه مالم يعلم انه اكتسب الحرام“ یعنی کسی جاہل شخص کو مضاربت کے طور پر مال دیا تو مضاربت سے حاصل ہونے والا نفع لینا جائز ہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے حرام طور پر کمایا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.