Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحبِ ترتیب نے قضا نہ پڑھی اور اگلی نماز شروع کردی تو کیا کرے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2024 ء
Question
کرے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب ترتیب شخص کی فجر قضا ہو گئی، صاحب ترتیب شخص، ظہر کی نماز الگ سے پڑھ رہا تھا، دوران نماز ابھی ایک رکعت ہی پڑھی تھی کہ یاد آیا کہ فجر کی قضا نماز ابھی تک باقی ہے۔ پوچھنا یہ ہے صاحب ترتیب شخص جو ظہر کی نماز پڑھ رہا ہے، ظہر کی نماز پوری کرے یا نماز توڑ دے؟ ظہر کی نماز کا وقت ختم ہونے میں کافی وقت باقی ہے۔ شرعی رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ظہر کی نماز فاسد ہو گئی، پہلے فجر کی قضا نماز پڑھے اور بعد میں دوبارہ نئے سرے سے ظہر کی نماز ادا کرے۔ اس مسئلہ کی تفصیل کچھ یوں کہ صاحب ترتیب شخص پر لازم ہوتا ہے کہ قضا نماز یاد ہونے کی صورت میں پہلے قضا نماز پڑھے، بعد میں وقتی نماز پڑھے اور وقتی نماز ادا کرنے کے دوران یہ یاد آیا کہ قضا نماز باقی ہے اور وقتی نماز کے وقت میں بھی گنجائش ہو اس طرح کہ قضا نماز پڑھنے کے بعد ، وقتی نماز ادا ہونے کا وقت بچا ہو ، جیسا کہ سوال میں بیان کر وہ صورت میں ہے ، تو اس صورت میں جو وقتی نماز ادا کر رہا ہے ، وہ فاسد ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.