Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج قران میں قربانی کی طاقت نہ تھی اور عرفہ سے پہلے تین روزے نہ رکھے تو کیا حکم ہے ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حج قران یا حج تمتع کرنے والا قربانی کرنے کی طاقت نہیں رکھتا، تو اس پر دس روزے رکھنا لازم ہیں۔ تین روزے عرفہ کے دن سے پہلے اور بقیہ سات روزے حج کے دنوں کے بعد رکھے گا۔ پوچھنا یہ ہے اگر کسی نے عرفہ کے دن سے پہلے تین روزے نہیں رکھے اور قربانی کا دن آگیا، تو اب ایسے شخص کے لئے کیا حکم شرعی ہو گا؟ روزے رکھ سکتا ہے یا قربانی ہی کرے گا؟ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ایسے شخص پر اب قربانی کرنا ہی لازم ہو گا، روزہ رکھنے سے، قربانی کا واجب ادا نہیں ہو گا۔ "27 واجبات حج اور تفصیلی احکام میں ہے: ”اگر نویں ذوالحجہ تک پہلے کے تین روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ یوم نحر آگیا، تو اب روزے رکھنا کافی نہیں، بلکہ قربانی کرنا ہی لازم ہے۔ قربانی نہ کی تو نہ صرف قربانی ذمہ پر باقی رہے گی، بلکہ تاخیر کی، تو اس کی بنا پر دم دینا بھی لازم ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.