Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضا روزہ کی نیت کس وقت معتبر ہے ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2024ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی رات میں یہ نیت تھی کہ اگر میری سحری میں آنکھ کھلی تو میں نے قضا روزہ رکھنا ہے، لیکن سحری کے وقت زید قضا روزے کی نیت کرنا ہی بھول گیا اور مطلق روزے کی نیت سے اس نے روزور کھا، پھر صبح اسے یاد آیا کہ میں نے تو آج قضاروزہ رکھنا تھا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں زید دن میں اس قضا روزے کی نیت کر سکتا ہے؟ کیا دن میں نیت کر لینے سے اس کا وہ قضا روزہ ادا ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید کا وہ قضاروزہ ہی ادا ہو گا۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ قضا روزے کی نیت رات میں یا مین صبح صادق کے وقت کرنا ضروری ہے اس کے بعد قضا روزے کی نیت معتبر نہیں، اب جبکہ صورتِ مسئولہ میں زید نے رات ہی میں قضا روزے کی نیت کر لی تھی پھر اگر چہ کہ سحری اس نے مطلق روزے کی نیت سے کی لیکن کہیں بھی اس قضا روزے کی نیت سے رجوع کرنا نہیں پایا گیا، لہذا قضاروزے کی نیت رات ہی میں کر لینے سے اس کا وہ قضا روزہ شمار ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.