Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کے سر سے جدا ہونے والے بالوں کا حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورتوں کے کنگھا کرنے یاسر دھونے میں جو بال سر سے جُدا ہو جائیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
عورتوں کے کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال سر سے جدا ہو جائیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ عورت ان بالوں کو چھپا دے یا دفن کر دے تاکہ ان پر کسی اجنبی ( غیر محرم) کی نظر نہ پڑے، کیونکہ عورت کے بال ستر میں داخل ہیں، جس کی طرف نظر کرنا، نا جائز ہے اور جس عضو کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہو، اس کے بدن سے جد اہونے کے بعد بھی انہیں دیکھنا، جائز نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.