Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عید کے موقع پر مہمان کا صدقۂ فطر کس پر واجب ہے؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عید کے قریب مہمان آئے، تو مہمان کا صدقہ فطر بھی میزبان کے ذمہ لازم ہوتا ہے، کیا یہ بات درست ہے ؟

Answer (beginning)

صدقہ فطر ہر آزاد، مسلمان، مالک نصاب ( یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت کے بقدر رقم یا کوئی سامان حاجت اصلیہ اور قرض کے علاوہ موجود ہو ،اس) پر عید الفطر کی صبح صادق طلوع ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے اور ہر مالک نصاب کا فطرانہ اُسی پر واجب ہوتا ہے ، دوسرے پر نہیں ؛ حتی کہ نابالغ بچہ بھی صاحب نصاب ہو ، تو اسی کے مال سے ادا کیا جائے گا، یو نہی مہمان مالک نصاب ہے ، تو اس کا صدقہ فطر بھی اُس پر واجب ہو گا، میزبان پر نہیں، البتہ اگر میزبان خود ادا کرنا چاہے، تو مہمان کی اجازت سے اس کی طرف سے ادا کرنے میں حرج بھی نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.