Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے کے کفارے کا کھانا مدرسے میں دینا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کے کفارے میں اگر کھانا کھلایا جائے ، تو کیا وہ کھانا 60 شرعی فقیروں کو کھلانا لازمی ہے یا کسی سنی مدرسے میں بھی دے سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

روزے کے کفارے میں جب کھانا کھلایا جائے تو 60 مسکینوں (یعنی شرعی فقیروں) کو دو وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھلا نالازم ہے۔ اب چاہے وہ کھانا مدرسے کے علاوہ 60 شرعی فقیروں کو کھلایا جائے یا مدرسے میں 60 شرعی فقیروں کو کھلایا جائے ، بہر دو صورت کفارہ ادا ہو جائے گا۔ البتہ یہاں ایک بات واضح رہے کہ زکوۃ و فطرہ کے بر عکس روزے کے کفارے کے کھانے میں تملیک فقیر ضروری نہیں ہے، لہذا اس کے لیے حیلہ کی حاجت بھی نہیں ہو گی، بلکہ اگر کسی مدرسے میں دو وقت کھانا دیا اور وہاں 60 شرعی فقرا اس کھانے سے سیر ہو گئے، تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.