Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی پر بیچنے کے لئے خریدے گئے پلاٹ بھی مالِ تجارت ہیں۔
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ فروری 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے چند پلاٹ اس نیت سے خریدے ہیں کہ بچے بڑے ہوں گے تو یہ پلاٹ کو فروخت کر کے بچوں کی شادی کرے گا، کیا ان پلاٹوں پر زکوۃ بنے گی ؟ اگر بنے گی تو کتنی زکوۃ دینی ہو گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بچوں کی شادی وغیرہ کے مواقع پر بیچنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ بھی مالِ تجارت ہیں کیونکہ بیچنے کی نیت کے ساتھ خریدے گئے ہیں۔ لہذ ا صاحب نصاب ہونے کی صورت میں نصاب پر سال مکمل ہونے والے دن دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ ان پلاٹوں کی سال مکمل ہونے والے دن مارکیٹ ویلیو کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد زکوۃ میں دینا ضروری ہے۔ در مختار میں ہے: ” (و ما اشتراه لها) اى للتجارة (كان لها) لمقارنة النية لعقد التجارة“ یعنی جو چیز تجارت کے لیے خریدی جائے تو عقد تجارت کی نیت ملی ہونے کی وجہ سے وہ چیز تجارت کی بن جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.