Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مسجد کی تعمیر میں حصہ ملانے کی منت پوری کرنا لازم ہے ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ فروری 2024ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چند سال پہلے میرے دوست نے مجھ سے قرض لیا تھا، کئی بار کوشش کے باوجود قرض وصول نہیں ہوا تو میں نے منت مانی کہ اگر میرا قرض واپس مل گیا تو میں دس ہزار روپے اپنے شہر کی جامع مسجد کی تعمیر کے لیے دوں گا ، اب قرض وصول ہو چکا ہے تو کیا شرعاً اس منت کو پورا کرنا لازم ہے ؟
Answer (beginning)
منت کے لازم ہونے کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ جس چیز کی منت مان رہے ہیں وہ عبادت مقصودہ ہو اور اس کی جنس میں سے کوئی فرض یا واجب ہو اور مسجد کی تعمیر میں رقم دینا عبادت مقصودہ نہیں ہے اور نہ اس کی جنس میں سے کوئی فرض یا واجب ہے، بلکہ یہ ایک مستحب کام ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ پر اپنے شہر کی جامع مسجد کی تعمیر میں رقم دینا شر عالازم نہیں ہے، مگر دے دیں تو اچھا ہے کہ مسجد کی تعمیرات میں حصہ لینا اجر و ثواب کا کام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.