Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو میں سر کا مسح کرنے سے پہلے انگلیاں چومنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ سر کا مسح کرنے سے پہلے ہاتھوں پر پانی ڈال کر انگلیاں چومتے ہیں بعض تو آنکھوں سے بھی لگاتے ہیں پھر اُسی استعمال شدہ ہاتھ کی تری سے مسح کرتے ہیں۔ تو کیا اس طرح کرنے سے سر کا مسح درست ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
پوچھے گئے مسئلہ کی دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ ہے کہ چونکہ سر کا مسح کرنے کے لیے ہاتھ کا تر ہو ناضروری ہے اب خواہ یہ تری اعضائے وضو دھونے کے بعد ہاتھ میں رہ گئی ہو یا پھر نئے سرے سے ہاتھ کو تر کیا ہو، بہر صورت وہ تری مسیح کے لئے کافی ہو گی۔ اب اگر کسی شخص نے مسح سے پہلے اس تر ہاتھ سے عمامے کو چھو لیا یا پھر جسم کے کسی ایسے حصے پر وہ ہاتھ پھیر اجسے وضو میں دھویا جاتا ہے تو اب اگر اس کے ہاتھ میں تری باقی ہے تو سر کا مسح ہو جائے گا اس طرح کرنے سے اس کے مسح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.