Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحبِ ترتیب کا جمعہ کا وقت نکل رہا ہو تو وہ کیا کرے؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحب ترتیب کا جمعہ جارہا ہو اور کہیں نہیں ملے گا، یعنی جمعہ کی جماعت جارہی ہو لیکن ظہر کا وقت ابھی باقی ہو ، تو کیا پہلے جمعہ پڑھے گا یا قضا نماز ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ایسا شخص پہلے قضا نماز پڑھے گا، پھر جمعہ کے بدلے ظہر کی نماز پڑھے گا۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص صاحب ترتیب ہو اور جمعہ کے وقت اسے یاد آگیا کہ میری ایک نماز رہتی ہے ، لیکن صورتحال یہ ہو کہ اگر قضا نماز پڑھے گا تو جمعہ کی جماعت چلی جائے گی لیکن ظہر کی نماز کا وقت باقی ہو گا، تو ایسے شخص پر ضروری ہے کہ پہلے قضا نماز پڑھے پھر جمعہ کے بدلے ظہر کی نماز پڑھ لے۔ اور اگر صور تحال یہ ہو کہ جمعہ کی جماعت چلے جانے کے ساتھ ساتھ ظہر کا وقت بھی ختم ہو جائے گا، تو ایسی صورت میں بالاتفاق وہ شخص پہلے جمعہ ادا کر لے پھر قضا نماز پڑھ لے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.