Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک قسم باربار کھاکر توڑنے سے کتنے کفارہ لازم ہونگے ؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر 2023 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ اللہ کی قسم میں فلاں کی شادی پر نہیں جاؤں گا۔ “اور قسم کے یہ الفاظ اس نے کئی بار کہے اور مختلف محفلوں میں کہے، تو یہ ایک قسم ہوئی یا متعدد اور اب اگر وہ یہ قسم توڑ دے اور شادی میں چلا جائے، تو کتنے کفارے لازم ہوں گے ؟

Answer (beginning)

بیان کردہ صورت میں قسم کھانے والے نے جتنی بار قسم کے مذکورہ الفاظ دہرائے اتنی قسمیں منعقد ہو ئیں اور قسم توڑنے کی صورت میں اتنے ہی کفارے لازم ہوں گے ، خواہ یہ الفاظ اسی مجلس میں دہرائے یا دوسری مجلس میں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَ سَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftaAhlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.