Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تندرستی کے زمانے میں قضا کی گئی نمازیں مریض کس طرح ادا کرے؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ دسمبر 2023 ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جس شخص کی تندرستی کی حالت میں نمازیں قضا ہوئیں، اب وہ اس قدر بیمار ہے کہ صرف اشارے سے ہی نماز پڑھ سکتا ہے، کیا اس شخص کی حالتِ صحت کی قضا نمازیں اشارے کے ساتھ پڑھنے سے ادا ہو جائیں گی یا ان نمازوں کو صحت یابی کی حالت میں ہی پڑھنا لازم ہے ؟

Answer (beginning)

قضا نماز پڑھنے کے حوالے سے شریعت مطہرہ کا اصول یہ ہے کہ قضا نماز کی ادائیگی کا بھی وہی طریقہ ہے جو ادا نماز پڑھنے کا ہے، البتہ اگر کوئی عذر لاحق ہو جائے کہ وہ شخص قیام رکوع اور سجود پر قادر نہ رہے، تو اس صورت میں اس شخص کو اپنے عذر کے مطابق نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ چونکہ صورتِ مسئولہ میں یہ شخص صرف اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے پر قادر ہے، لہذا اگر یہ شخص اشارے کے ساتھ قضا نمازیں پڑھے تو اس کی قضا نماز میں ادا ہو جائیں گی، ان نمازوں کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ پڑھنا، لازم نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.