Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفع طے کئے بغیر شراکت داری کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اسکریپ کا سامان خرید کر اس سے چاندی نکالنا جانتا ہوں ایک دوست نے مجھے دولاکھ روپے بطور شرکت دیئے اور میں نے بھی اپنے دولاکھ روپے ملائے تا کہ اسکریپ کا مال خرید کر چاندی نکال سکوں ، نفع سے متعلق ہماری یہ بات طے ہوئی تھی کہ میں اپنی مرضی سے اسے کچھ بھی نفع دے دوں گا البتہ نقصان سے متعلق ہماری کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ ہمارا اس طرح معاہدہ کرنا کیسا ہے ؟

Answer (beginning)

عقد شرکت میں ہر فریق کا نفع فیصد کے اعتبار سے طے کرنا ضروری ہے، اگر فیصد کے اعتبار سے نفع کی مقدار طے نہ کی تو شرکت فاسد ہوگی لہذا اپوچھی گئی صورت میں نفع کو دوسرے فریق کی مرضی پر موقوف رکھا ہے، فیصد کے اعتبار سے طے نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے یہ شرکت فاسد ہوئی ہے جسے ختم کرناضروری ہے۔ اگر نئے سرے سے شرکت کرنا چاہیں تو نفع فیصد کے اعتبار سے طے کریں اور کام نہ کرنے والے فریق کے لیے یا کم کام کرنے والے فریق کے لیے اگر نفع کی مقدار بھی کم مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.