Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حالت حیض میں عمرہ کرلیا تو کیا حکم ہوگا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ نومبر 2023

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت کی حیض میں عادت سات دن تھی وہ احترام باندھ کے عازم سفر ہو گئی اپنی عادت کے مطابق 7 ویں دن غسل کر کے عمرہ ادا کیا جس وقت غسل کیا اس وقت پاکی کا یقین تھا پھر عمرہ کی ادائیگی کے کچھ ہی دیر کے بعد دوبارہ حیض کا اثر ظاہر ہوا جو ایک دن رات سرخی مائل تھا ایک دن میالا اور پھر دسویں دن صبح ہی سفید ہو گیا ان دنوں انہوں نے انفیکشن کی دوا بھی کھائی غالباً اسی کی وجہ سے مکمل یا کی آئی اب ان کے اس عمرے کا جو ادا کیا، کیا حکم ہے اور نمازوں کے بارے میں ارشاد فرمائیے؟

Answer (beginning)

حیض کی عادت دس دن سے کم ہو مثلاً سات دن اور عادت کے مطابق یہ خون آنا بند ہو گیا پھر اگر آٹھویں دن دوبارہ خون شروع ہوا اور دس دن پورا ہونے سے پہلے یا دس دن کے مکمل ہونے پر ختم ہو گیا تو یہ تمام دن حیض کے ہی شمار کیے جائیں گے اور جو عمرہ ادا ہو اوہ ناپاکی کی حالت میں ہوا۔ سفید رطوبت حیض میں شمار نہیں ہو گی جبکہ مٹیالی رنگت والی رطوبت حیض شمار ہوتی ہے۔ حیض کی حالت میں نماز معاف ہے۔ لہذ ا سوال میں پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ طواف کا اعادہ ( یعنی دوبارہ کرنا لازم ہو گا جب تک مکہ مکرمہ میں ہے ، اعادہ نہ کرنے کی صورت میں دم دینا ہو گا، کیونکہ طہارت طواف میں واجب ہے اور سعی میں طہارت مستحب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.