Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زمین بلڈر کی ملکیت میں نہ ہو تو پلاٹ یا فلیٹ کی بکنگ کروانا کیسا ؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2023ء

Question

کیسا؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بلڈر کے پاس جب ہم پلاٹ یا فلیٹ کی جنگ کرواتے ہیں تو بعض اوقات جگہ اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی تو کیا ایسی بلنگ کروا سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں فلیٹ کی بجنگ کروانا تو جائز ہے کیونکہ یہ بیچ استصناع ہے یعنی آرڈر پر چیز بنا کر دینا اس میں پایا جاتا ہے لہذا اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن قانونی طور پر بلڈر کے لئے اگر یہ ضروری ہو کہ وہ پلاٹ کا مالک بننے سے پہلے پروجیکٹ کا اعلان نہیں کر سکتا تو ایسے میں بلڈر کو قانونی پابندی کرناضروری ہو گا۔ واضح رہے کہ یہ مسئلہ فلیٹ بک کروانے کا ہے کیونکہ اس میں میکنگ کا عمل پایا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ رعایت موجود ہے کہ فلیٹ کا اس وقت موجود ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ بنا کر دیئے جائیں گے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.