Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دوران عمرہ احرام پر خوشبو لگانا کیسا؟
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے چند سال پہلے عمرہ کیا تھا اور دوران عمرہ مسائل کا علم نہ ہونے کی وجہ سے حالت احرام میں خوشبولگالی تھی، یعنی اس طرح کہ میں نے دونوں ہاتھوں پر عطر لگا کر ہاتھوں کو مل کے احرام پر لگا لیا، اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ ایسا کر نادرست نہیں تھا، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اب اس کا کفارہ کیا ہو گا؟ اور چونکہ کافی عرصہ ہو چکا ہے تو کیا ابھی بھی ادا کر سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں آپ پر ایک دم لازم آئے گا (مناسک علی القاری، ص 551) کیونکہ اولاً تو جس طرح آپ نے خوشبو لگائی یہ قلیل نہیں ہوتی بلکہ کثیر ہوتی ہے اور بالفرض اس کو قلیل بھی مان لیا جائے تو قلیل خوشبو بھی حالتِ احرام میں جب پورے عضو پر لگالی جائے ، تو دم لازم آتا ہے۔ (الفتاوی الھندیة، 241/1،بہارِ شریعت، 1163/1) فقہائے کرام نے ہتھیلی کو پورا عضو شمار کیا ہے (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحه الخالق، 3/3)، اگر کسی پر دم واجب ہوا تو اس پر دم کی ادا ئیگی فوری واجب نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.