Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سامان بیچنے والےکے گاڑی لوڈ کرانے پر خریدار کا قبضہ شمار ہوگا یا نہیں ؟

Question

اگر خریدار سلمان خریدنے کے بعد بیچنے والے سے یہ کہے کہ آپ میری طرف سے سامان لوڈ کرنے والی گاڑی کرواؤ، گاڑی کے پیسے میرے ذمے ہیں، تو کیا گاڑی والے کا قبضہ کرنا خریدار کا قبضہ کہلائے گا؟

Answer (beginning)

اگر واقعی خریدار کے کہنے پر سامان بیچنے والا کسی گاڑی والے سے بات کر کے سامان لوڈ کر وادے گا تو گاڑی والے کا قبضہ اس چیز کو خریدنے والے کا قبضہ شمار ہوگا کیونکہ یہاں گاڑی والا اس خریدار کی طرف سے وکیل کی حیثیت سے اس سامان پر قبضہ کر رہا ہے اور وکیل کا قبضہ مؤکل کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔ یہاں گاڑی والے کو خریدار کی طرف سے قبضہ کرنے کا وکیل ماننے کی وجہ یہ ہے کہ گاڑی والا خریدار کا اجیر ہے اور اس کے لئے کام کر رہا ہے اسی وجہ سے اپنے کام کی اجرت خریدار سے وصول کرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.