Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مرحوم کی انشورنس کی رقم کا مالک کون ہوگا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جولائی 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ایک عزیز کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے انشورنس بھی کروائی ہوئی تھی، اس کے تقریباً چالیس لاکھ روپے ملے ہیں۔ یہ بتائیں کہ انشورنس کی رقم بھی تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی یا جس وارث کو کمپنی میں کلیم کرنے کے لئے مرحوم نے نامزد کیا تھا، وہ تم صرف اسی کی ہے ؟
Answer (beginning)
انشورنس کمپنی سے ملنے والی رقم دو طرح کی ہوتی ہے، ایک رقم وہ ہوتی ہے جو پالیسی ہولڈر نے جمع کروائی ہوتی ہے اور ایک رقم وہ ہوتی ہے جو کمپنی اپنی طرف سے اضافی دیتی ہے جو کہ سود ہوتی ہے۔ وہ رقم جو سود ہے،اس کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ وہ بغیر ثواب کی نیت کے کسی شرعی فقیر کو دے دیں اور وہ رقم جو مرحوم نے جمع کروائی تھی، وہ تمام ورثاء میں شرعی طریقہ کار کے مطابق تقسیم ہو گی صرف نامزد کردہ وارث کو نہیں ملے گی کیونکہ انشورنس کمپنی میں نامزد کر وانے کا مقصد مالک بنانا نہیں ہو تا بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ پالیسی ہولڈرا گر انتقال کر جائے تو نامز د کر دہ شخص کو کلیم کرنے کا حق ہو گا تا کہ وہ کلیم کر کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.