Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک احرام سے کتنے عمرے کر سکتے ہیں؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جون 2023
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے مسجد عائشہ سے ایک ساتھ دو عمروں کی نیت سے احرام باندھا۔دو عمروں کی نیت کرتے ہوئے اس کا ارادہ یہ تھا کہ ”وہ اسی نیت کے ساتھ دو عمرے کرے گا، پہلا عمرہ کرنے کے بعد وہ حالت احرام میں ہی ہو گا اور اسی احرام سے دوسرا عمرہ کرے گا، دوسرے عمرے کی نیت کے لئے مسجد عائشہ آنے کی حاجت نہیں ہو گی اس مذکورہ نیست وارادے سے زید نے ایک عمرہ کے لئے طواف وسعی کر کے حلق کروایا اور خود کو حالت احرام میں سمجھتے ہوئے اس نے مسجد حرام سے ہی دوسرے عمرے کے لئے تلبیہ پڑھا، اور طواف وسعی کر کے حلق کروایا۔ زید نے دو عمرے کرنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا ہے، کیا یہ درست ہے ؟ زید پر کوئی دم وغیرہ تولازم نہیں ہوا؟ راہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں زید نے ایک ساتھ دو عمرے کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے یہ شرعاً درست نہیں ہے، زید گناہ گار ہوا، اور اس پر ایک عمرے کی قضا اور ایک دم لازم ہے جو حدود حرم میں ہی ادا کر ناضروری ہے۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ دو عمروں کا ایک ساتھ احرام باندھنانا جائز و گناہ ہے اس لیے زید گناہ گار ہوا اور اس پر دو عمروں کی ادائیگی لازم ہو گئی کیونکہ دو عمروں یا متعدد عمروں کا ایک ساتھ احرام باندھ لینے سے اتنی ہی تعداد میں عمرے لازم ہو جاتے ہیں۔اور ایک احرام میں دو عمروں کی نیت کی ہو تو دونوں میں سے ایک کار فض یعنی ایک عمرے کی نیت توڑ نالازم ہوتا ہے ، اس رفض عمرہ کے سبب ایک دم بھی لازم ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.