Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فلیٹ یا دکان تعمیر ہونے سے پہلے خریدنا یا بیچنا کیسا ؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) فلیٹ یاد کان تعمیر ہونے سے پہلے خرید نایا بیچنا کیسا کیونکہ عموماً خریداری کے وقت ان کا وجود نہیں ہوتا بلکہ بجنگ پہلے ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بلڈ نگ تیار ہوتی ہے تو کیا تیار ہونے سے پہلے اس بلڈنگ کی دکانیں یا فلیٹس وغیرہ خرید سکتے ہیں ؟ (2) جس نے فلیٹ بک کروایا تھا کیا وہ اس فلیٹ کے قبضے میں آنے سے پہلے اسے آگے بچ سکتا ہے؟

Answer (beginning)

(1) عمومی حکم تو یہی ہے کہ کسی چیز کو بیچتے وقت اس کا موجود ہو نا ضروری ہے البتہ دو صورتیں ایسی بھی ہیں کہ جہاں مال موجود ہونا ملکیت میں ہو ناضروری نہیں ہوتا۔ ایک بیع سلم ہے اور دوسری صورت بیچ استصناع کی ہے۔ بیچ استصناع وہ صورت ہے جس میں کوئی پراڈکٹ آرڈر پر تیار کر کے دی جاتی ہے اور سودا کرتے وقت وہ پراڈکٹ موجود نہیں ہوتی۔ سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے یہ بھی بیچ استصناع کی صورت ہے اس لئے یہاں بھی فلیٹس کا سودے کے وقت موجود ہوناضروری نہیں۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں فلیٹس بننے سے پہلے ان کی بلنگ کرنا اور کروانا، جائز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.