Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگلی رکعت میں چند آیات آگے سے تلاوت کرنا کیسا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے فجر کی پہلی رکعت میں، دوسرے پارے کی ابتداء " سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ" سے قراءت شروع کی اور چھ آیتیں پڑھ کر رکعت مکمل کرلی، پھر ان چھ آیتوں کے بعد متصلا پانچ آیتیں بلاضرورت چھوڑ کر ، دوسری رکعت میں ” يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة“ سے قراءت شروع کی، اور پانی آیتیں پڑھ کر نماز مکمل کر لی۔ کیا اس طرح قراءت کرنے سے اس شخص کی نماز میں کسی قسم کی کراہت تو نہیں آئی؟
Answer (beginning)
فرض نماز کی دورکعتوں میں اس طرح قراءت کرنا کہ ایک رکعت میں چند آیات کی تلاوت کی اور پھر دوسری میں اس سے متصل ایک آیت چھوڑ کر آگے سے تلاوت کی، مکروہ تنزیہی ہے یعنی گناہ تو نہیں مگر اس سے بچنا بہتر ہے اور اگر درمیان میں دو یا اس سے زائد آیات کا فاصلہ ہو تو مکروہ تنزیہی بھی نہیں البتہ افضل یہی ہے کہ دو یاز ائد آیات کا فاصلہ بھی نہ ہو۔ نیز یادر ہے کہ یہ حکم دور کعتوں میں ہے ، فرض نماز کی ایک رکعت میں بلاضرورت متفرق مقامات سے تلاوت کرنا، مطلقا مگر وہ تر یہی ہے اگر چہ درمیان میں دو یاز اند آیات کا فاصلہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.