Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نفل روزے میں حیض آنے پر روزے کا حکم؟
- Answered by
- مفتی ابو محمدعلی اصغر عطاری مدنی
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی عورت نے نقلی روزہ رکھا اور اسے روزے سے دوران حیض آگیا تو کیا نفلی روزے کی قضا لازم ہو گی یا روزہ معاف ہے ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت پر اس نفلی روزے کی قضا لازم ہے۔ در مختار میں ہے: ”ولوشرعت تطوّعاًفيهما فحاضت قضتهما یعنی اگر عورت نے نفلی روزہ رکھا یا نفلی نماز شروع کی اور اس دوران حیض آگیا تو نفلی نماز یا نفلی روزے دونوں صورتوں میں قضالا زم ہے۔(الدر المختار معہ ردّ المحتار 533/1) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”روزے کی حالت میں حیض یا نفاس شروع ہو گیا تو وہ روزہ جاتا رہا اس کی قضار کھے ، فرض تھا تو قضا فرض ہے اور نفل تھا تو قضا واجب۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.