Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیوہ اگر حاملہ ہوتو اس کی عدت کیا ہے؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہمارے ایک عزیز کا ایک ہفتہ پہلے انتقال ہوا ہے، جب وہ فوت ہوئے تو ان کی زوجہ امید سے تھیں اور حمل کے آخری ایام چل رہے تھے یعنی نو ماہ سے چند دن کم کا حمل تھا اب ایک ہفتے بعد ہی ان کے ہاں بچے کی ولادت ہو گئی ہے ، تو اس صورت میں کیا بیوہ کی عدت پوری ہو گئی ہے یا پھر انہیں مزید عدت کے ایام گزار نے ہوں گے ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں بیوہ کی عدت پوری ہو گئی ہے، کیونکہ حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل (بچہ جننے ) تک ہوتی ہے، خواہ عدت ہو یا وفات طلاق کی کی ، ان کی عدت کے لئے کوئی خاص مدت مقرر نہیں ہے، لہذ ا طلاق واقع ہونے یا شوہر کی وفات کے چند دن ، بلکہ چند لمحات کے بعد بھی بچے کی ولادت ہو جائے، تو عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم دام الا اعلان Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.