Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مسافر پر قربانی واجب ہوگی؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مالدار مقیم پر قربانی واجب تھی پھر بار ذوالحجہ کی صبح بانوے کلو میٹر سے زائد سفر شرعی پر نکل گیا، کیا اب اس پر قربانی واجب رہی یا نہیں؟ نیز اگر اس نے قربانی کی نسبت سے بکرا خرید لیا تھا، تو اب مسافر ہونے پر اسے فروخت کر سکتا ہے یا نہیں ؟ سائل: محمد حامد سلطانی (فیصل آباد)
Answer (beginning)
سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق اُس شخص پر قربانی واجب نہ رہی، کیونکہ قربانی کے وجوب کی شرائط میں سے ایک شرط مقیم ہونا بھی ہے ، لہذا اگر وہ بارہ ذوالحجہ کی صبح مسافر ہو گیا اور قربانی کے آخری وقت یعنی غروب آفتاب تک مسافر شرعی ہی رہا، تو اب اس پر قربانی واجب نہ ہوگی اور اگر اس شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تھا، تو اسے فروخت کر سکتا ہے، صدقہ کرنا واجب نہیں، کیونکہ مسافر شرعی بنے کی صورت میں اس پر قربانی واجب نہ رہی تھی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.