Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکہ جانے کا ارادہ نہ ہو تو بغیر احرام میقات سے گزرنا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2021

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہماری کچھ دنوں بعد حج کے لئے روانگی ہے، ہم پہلے مدینہ پاک جائیں گے ، پھر وہاں سے حج کے قریب مکہ شریف آئیں گے، تو اس کے لئے حج منسٹری والوں کی طرف سے یہ میسج آیا ہے کہ آپ کی حج پرواز جدہ جائے گی ، پھر وہاں سے بس کے ذریعے مدینہ منورہ جائیں گے ، مدینہ میں قیام کے بعد آپ سنتِ نبوی کی روشنی میں احرام باندھ کر مکہ مکرمہ کے لئے بذریعہ بس روانہ ہوں گے ، لہذا جدہ کے سفر کے لئے آپ احرام نہ باند ھیں ، معلوم یہ کرنا ہے کہ جدہ تو میقات کے اندر ہے، تو کیا ہم میقات سے احرام کے بغیر گزر سکتے ہیں؟ سائل: محمد عدنان عطاری (کہوٹہ ،راولپنڈی) 66

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں آپ میقات سے بغیر احرام باندھے گزر سکتے ہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص مکہ ( حدود حرم میں) جانے کے ارادے سے میقات سے گزرے، تو اس پر حج یا عمرے کا احرام باند ھناواجب ہوتا ہے ،ایسے شخص کا میقات سے بغیر احرام کے گزرنا، دم واجب ہونے کا سبب ہے، لیکن اگر میقات سے گزرتے ہوئے مکہ جانے کا ارادہ نہ ہو، بلکہ حدود حرم سے باہر ہی کسی جگہ مثل جدہ جانا ہو، تو اس پر میقات سے گزرتے ہوئے احرام باند ھناضروری نہیں اور آپ کا میقات سے گزر نامکہ جانے کے لئے نہیں، بلکہ حدود حرم سے باہر جدہ، پھر وہاں سے مدینہ شریف جانا ہے، لہذا میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھے بغیر گزر سکتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.