Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ویڈیو یا تصویر بنا کر ویب سائٹ کو بیچنا کیسا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ مارچ 2023
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کچھ لوگ ویڈیوز یا تصاویر شوٹ کر کے اسے کسی ویب سائٹ وغير وپر نگا دیتے ہیں۔ ایسا کرنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
اگر جاندار کی تصویر ہو اور اس کا پرنٹ نکال لیا جائے تو یہ جائز نہیں۔ البتہ اگر ڈیجیٹل تصویر یا ویڈیو ہے تو یہ بھی ایک پراڈکٹ ہے اور اسے بھی ہمارے عرف میں مال سمجھا جاتا ہے اور اس پر بھی وقت اور سرمایہ خرچ ہوتا ہے لہذا مال ہونے کی وجہ سے اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے لیکن اس میں یہ دیکھناضروری ہے کہ اس میں کوئی غیر شرعی یا غیر اخلاقی مواد نہ ہو ، مقاصدِ شریعت کے خلاف کسی بات پر مشتمل نہ ہو۔ لہذا پہلے مفتیانِ کرام سے رہنمائی لے لی جائے کہ اس مواد پر مشتمل تصویر اور ویڈیو بیچنادرست ہے یا نہیں ؟ اور شرعی رہنمائی کی روشنی میں ہی کام کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.