Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کے پیسوں سے پُل کی تعمیر یا پانی کا کنواں بنوانا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ گلگت بلتستان کی طرف دور دراز دیہات میں ایک جگہ ہے جہاں پہاڑوں پر دو گاؤں کے درمیان ایک ندی بہتی ہے جس میں ویسے ہی گزر نا ممکن نہیں پانی بہت تیز بہتا ہے، تو اہل علاقہ نے سوچا کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت صرف پیدل گزرنے کے لئے لکڑی کا ٹیل اس کے اوپر بنوا لیتے ہیں، کیونکہ وہاں شدید حاجت ہے، دوسرا راستہ اختیار کرنے میں مشکل بھی زیادہ ہے اور ٹائم بھی زیادہ لگتا ہے۔ سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا ز کوۃ کی رقم سے وہاں پر پل تعمیر کروا سکتے ہیں ؟ اسی طرح زکوۃ کے پیسوں سے غریب آدمیوں کے لئے پانی کا کنواں نکلوا سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
اگر علاوہ زکوۃ صاف رقم سے پل کی تعمیر کرنا ممکن ہے تو پھر زکوۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ہو گا فقہائے کرام نے پل وغیرہ مفادِ عامہ کے ان کاموں کے لئے حیلہ شرعی کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے زکوۃ استعمال کرنے کی اجازت اس وقت دی ہے جہاں زکوۃ کے علاوہ صاف پیسوں کا بندوبست نہ ہورہاہو اور ان کاموں کی حاجت بھی شدید ہو۔ زکوۃ میں تملیک (یعنی فقیر شرعی کو مالک بنانا ) شرط ہے اور کنواں کھدوانے اور پل تعمیر کروانے میں تملیک نہیں پائی جاتی اس موقع پر جب زکوۃ لگانا جائز ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے زکوۃ کی رقم کا فقیر شرعی کو مالک بنادے، پھر وہ فقیر اپنی مرضی سے کنواں کھد والے یا پل تعمیر کر والے، اس سے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.