Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیمپل والی ادویات کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ڈاکٹر کو جو ادویات سیمپل کے طور پر دی جاتی ہیں اگر وہ میڈیکل اسٹور والے کو بیچ دے تو اس میڈیکل اسٹور سے وہ ادویات خرید ناکیسا ہے جبکہ بعض اوقات ان پر Not For Sale بھی لکھا ہوتا ہے؟

Answer (beginning)

جہ (Gin) ایک عقد تبرع ہے اور جس کو ہبہ کیا جائے وہ اس چیز کا مالک بن جاتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں اگر ڈاکٹر کو یہ ادویات کمپنی نے ہبہ کردی ہیں تو وہ ڈاکٹر کی ملکیت ہیں اب چاہے ڈاکٹر وہ ادویات خود استعمال کرے یا مریضوں کو دے یا آگے فروخت کرے، وہ خود مختار ہے۔ جہاں تک اس پر Not For Sale لکھا ہونے کا سوال ہے تو جب کمپنی نے ڈاکٹر کو مالک بنادیا اور وہ اپنی چیز خود بیچ رہا ہے تو اس پر Not For Sale لکھا ہونے سے اس کا بیچنا، ناجائز نہیں ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.