Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے کی حالت میں دھونی لینا کیسا ؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2023ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے ایک باشرع عامل سے کچھ تعویذات لئے۔ ان میں ایک تعویذ کچھ نقوش پر مشتمل تھا، آیات قرآنی نہیں تھیں، جس کے متعلق عامل صاحب نے کہا تھا کہ یہ مغرب سے کچھ دیر پہلے کو ٹکوں پر رکھ کر اس کے دھوئیں کی دھونی لینی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم روزے کی حالت میں اس تعویذ کو کو نکلوں پر جلا کر اس کے دھوئیں کی دھونی لے سکتے ہیں یا نہیں؟ ( سائلہ : اسلامی بہن)

Answer (beginning)

روزے کی حالت میں دھواں قصداً حلق سے داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لہذار وزے میں دھونی نہیں لے سکتے۔ روزہ یاد ہوتے ہوئے، جان بوجھ کر دھواں گلے میں کھینچنے کے متعلق رد المحتار مع الدر المختار میں ہے: ”لو ادخل حلقه الدخان افطر (ای بای صورة كان الادخال حتى لوتبخر بخورة و آواه الى نفسه واشتمه ذاكرالصومه، افطر لامكان التحرز عنه) ترجمہ : اگر کسی نے اپنے حلق میں دھواں داخل کیا، توروزہ ٹوٹ جائے گا یعنی دھواں داخل کرنا جس طرح بھی ہو ، یہاں تک کہ اگر خوشبو سلگ رہی تھی اور اس نے اپنے قریب کر کے روزہ یاد ہوتے ہوئے دھوئیں کو کھینچا، توروزو ٹوٹ جائے گا، کیونکہ اس سے بچنا ممکن تھا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.