Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بینک میں نوکری کرنا کیسا ہے ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2023
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی نوکری نہ مل رہی ہو تو کیا سودی بینک میں نوکری کر سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
ایسی نوکری اختیار کرنا حرام و گناہ ہے جس میں سود کا لین دین کرنا پڑے، سودی دستاویز لکھنا پڑے، اس پر گواہ بننا پڑے یا سودی کام میں معاونت کرنی پڑے۔ لہذا سودی بینک کی نوکری میں اگر مذ کورہ ناجائز کام کرنے پڑیں گے تو یہ نوکری کر نا حرام ہو گا۔ ہے۔ ہاں اگر سودی بینک کی نوکری ایسی ہو کہ جس میں یہ کام نہ کرنے پڑیں جیسے ڈرائیور یا سیکیورٹی گارڈ کی نوکری تو وہ جائز حدیث پاک میں ہے کہ حضرت سید ناجابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لعن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلّم أكل الربا وموكله وكاتبه و شاهدیه و قال هم سواء “ ترجمہ: رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نے سود کھانے والے اور سود کھلانے والے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.