Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جھوٹے کاغذات بنانے کی نوکری کرنا کیسا ؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2023

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید ایک ایسے شخص کے پاس نوکری کرتا ہے جو لوگوں کو بیرون ملک بھیجتا ہے، زید کے ذمے یہ کام ہے کہ وہ کمپیوٹر کی مدد سے باہر جانے والے افراد کے ڈاکو منٹس تیار کرتا ہے اور ان تمام افراد کے ڈاکو منٹس میں جائیداد اور کار و بار ظاہر کیا جاتا ہے ، حالا نکہ در حقیقت ان لوگوں کے پاس وہ پراپرٹی ، کاروبار اور اتنا اثاثہ نہیں ہوتا یعنی زید کی نوکری جعلی ڈاکو منٹس تیار کرنے پر ہے۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ کیا زید کے لیے یہ نوکری کرنا جائز ہے ؟

Answer (beginning)

زید کے لئے یہ نوکری کرنا جائز نہیں، کیونکہ ایسی پراپرٹی اور کاروبار شو کر ناجو در حقیقت ان لوگوں کے پاس ہے ہی نہیں۔ یوں لوگوں کے جھوٹ کو لکھنا گناہ کے کاموں پر معاونت ہے اور ایسی نوکری کرنا جائز نہیں جس میں گناہ کا کام کرنا یا اس پر معاونت کرنا پایا جائے۔ جھوٹ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ”اياكم والكذب، فان الكذب يهدي الى الفجور، وان الفجور يهدي إلى النار “ترجمہ : جھوٹ سے بچو ، کیونکہ جھوٹ فجور (یعنی حق بات سے انحراف) کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کاراستہ دکھاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.