Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جھوٹے کاغذات بنواکر سوسائٹی لانچ کرنا
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2023
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض حضرات سوسائٹی کے جھوٹے کاغذات بنوا کر سوسائٹی لانچ کر دیتے ہیں جب اصل مالک کو پتا چلتا ہے تو وہ کورٹ میں کیس کر دیتا ہے اور کورٹ سے اس کے حق میں فیصلہ آجاتا ہے ایسی صور تحال میں جس نے جھوٹے کاغذات بنوانے والے بلڈر سے پلاٹ خریدا تھا اسے شریعت کیا تحفظ فراہم کرتی ہے؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں دوسرے شخص کی زمین کو اس کی اجازت کے بغیر بیچ دینا، ناجائز و گناہ بلکہ کئی گناہوں کا مجموعہ ہے لہذا ایسا کرنے والے پر اپنے اس فعل سے تو بہ کرنالازم ہے۔ قانونی طور پر جب زمین کا فیصلہ اصل مالک کے حق میں ہو جائے تو اصل مالک کو اس زمین کو بیچنے والے (Seller)اور خریدار کے درمیان ہونے والے سودے کو باقی رکھنے اور فتح کرنے کا اختیار ہے چاہے تو سودے کو باقی رکھ کر اس زمین کی ادا کردہ قیمت (Price) وصول کرلے اور چاہے تو ان کے درمیان ہونے والے سودے کو فتح کر کے اپنے مالکانہ حقوق کو باقی رکھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.