Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیتِ سجدہ پڑھنے سننے پر سجدہ فوراً کرنا لازمی ہےیا تاخیر سے بھی کرسکتے ہیں ؟

Issued
ماہنامہ فیضان مدینہ فروری 2023

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حفاظ جب منزل کا دور کرتے ہیں ، تو اس دوران آیت سجدہ آنے پر فورا سجدہ کرنا بعض اوقات گراں ہوتا ہے مثلاً چار پائی پر بیٹھ کر یا چلتے ، پھر تے دور کرنے کی صورت میں ، سوال یہ ہے کہ آیت سجدہ پڑھی یا سنی تو سجدہ فوراگر نا واجب ہے یا تاخیر بھی کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

قوانین شریعت کے مطابق آیت سجدہ پڑھی یا سنی تو فور اسجدہ کرنا واجب نہیں ہے ، البتہ بلا عذر ، تاخیر مکروہ تنزیہی ہے کہ بعد میں بھول جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، لہذا افضل یہی ہے کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو سجدہ تلاوت فور اگر لیا جائے۔ خیال رہے یہ حکم نماز کے علاوہ کا ہے، نماز میں سجدہ تلاوت کا وجوب فوری ہے حتٰی کہ تین آیت سے زیادہ تاخیر گناہ ہے۔ فائدہ: حدیث شریف کے مطابق جب ابن آدم آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان ہٹ جاتا ہے اور رو کر کہتا ہے ہائے میری بربادی ! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اس کے لئے جنت ہے اور مجھے حکم ہوا تو میں نے انکار کیا، میرے لئے دوزخ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.