Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض دی ہوئی رقم پر زکوٰۃ کا حکم؟

Issued
ماہنامہ فیضانِ مدینہ فروری 2023

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ تقریباً ایک سال سے میں نے اپنے بیٹے کو ساڑھے بارولاکھ روپے کی رقم قرض دی ہوئی ہے۔ اس کی زکوۃ مجھ پر لازم ہے یا میرے بیٹے پر ؟ اگر مجھ پر لازم ہے تو اس کی ادائیگی کی صورت کیا ہوگی؟

Answer (beginning)

قرض پر دی ہوئی رقم کی زکوۃ ، مالک یعنی قرض دینے والے پر لازم ہوتی ہے۔ اس لئے پوچھی گئی صورت میں ساڑھے بارہ لاکھ روپے کی زکوۃ آپ کے بیٹے پر نہیں بلکہ خود آپ پر لازم ہے۔ البتہ ادائیگی فور اواجب نہیں بلکہ اس وقت واجب ہو گی جب کل رقم، یا نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم، یا نصاب کا کم از کم پانچواں حصہ یعنی ساڑھے دس تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم وصول ہو جائے۔ پھر جب بھی بقدر نصاب یا نصاب کا پانچواں حصہ وصول ہو جائے گا تو جتنا وصول ہو ا صرف اتنی رقم کا چالیسواں حصہ زکوۃ ادا کرنا واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.