Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کو مہر کے مطالبے کا اختیار کب ہوگا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2022 ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عقد نکاح میں مہر بیان کر دیا جائے مگر فوراً ادانہ کیا جائے اور نہ ہی دینے کی کوئی تاریخ مقرر کی جائے، تو عورت کو اس مہر کے مطالبے کا اختیار کب ہو گا؟
Answer (beginning)
جب بوقت نکاح مہر فورآنہ دیا جائے اور نہ ہی بعد میں دینے کی کوئی تاریخ مقرر کی جائے، تو شرعا اس کی مدت موت یا طلاق قرار پاتی ہے، لہذا جب تک شوہر کی وفات یا عورت کو طلاق واقع نہ ہو، تب تک عورت مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی، کیونکہ ایسی صورت میں مہر کے مطالبے کا دار و مدار عرف پر ہوتا ہے اور پاک و ہند میں طرف یہی ہے کہ مہر کی مدت مقرر نہ ہو، تو طلاق یا شوہر کی وفات تک اس کو مؤخر سمجھا جاتا ہے، لہذ اطلاق یا شوہر کی وفات ہونے کی صورت میں ہی عورت مہر کا مطالبہ کر سکتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.