Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفع کی شرح فیصد ،نفع پر طے کی جائے گی یا سرمایہ پر؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نفع کی شرح فیصد کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع پر ملے کی جائے گی یا سرمایہ کی رقمیر ؟

Answer (beginning)

کاروبار میں اخراجات نکال کر سرمایہ یعنی کیپٹل سے اوپر جور تم بچے اسے نفع کہتے ہیں اور اخراجات نکال کر اگر کیپٹل سے بھی کمی ہو تو وہ نقصان کہلاتا ہے۔ مشتر کہ کاروبار میں ایک یا زائد فریق جو کام کرتے ہیں ان کا اصل مقصود نفع کا حصول ہوتا ہے۔ شرکت کا معاہدہ کرتے وقت فریقین ایک تناسب اور فیصد طے کرتے ہیں کہ نفع ہوا تو اس تناسب سے اس کو تقسیم کریں گے۔ لہذا نفع ہونے پر اسی طے شدہ فارمولے سے رقم تقسیم ہو گی۔ نفع کس کو کتنا فیصد ملے گا یہ مقرر کرنے میں فریقین بہت ساری چیزوں کو دیکھ کر اتفاق کرتے ہیں مثلاً کیپٹل کس کا زیادہ ہے یا کام کون کتنا کر رہا ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.