Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مچھلی کا خون پاک ہے یا ناپاک؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مچھلی میں جو خون ہوتا ہے، وہ پاک ہوتا ہے یانا پاک ؟ در اصل میں مچھلی بیچتا ہوں، میری حتی الامکان کوشش تو ہوتی ہے کہ اپنے کپڑوں کو صاف رکھوں تا کہ نماز پڑھنے میں مشکل کا سامنانہ کرنا پڑے، لیکن بعض اوقات پچھلی بناتے وقت کپڑوں پر اس کے خون کے چھینٹے پڑ جاتے ہیں، تو کیا اسی حالت میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟
Answer (beginning)
مچھلی میں خون کی طرح نظر آنے والی سرخ رطوبت پاک ہے۔ یہ حقیقت میں خون نہیں ہے، لہذا اگر کپڑوں پر مچھلی کی خون نمار طوبت لگی ہو ، تو انہیں پہن کر نماز پڑھنے سے نماز ہو جائے گی، لیکن یہ نظافت کے ضرور خلاف ہے کہ بندہ ایسی حالت میں کسی دنیادار معزز کے سامنے جانا پسند نہیں کرتا، تواللہ رب العلمین کی بارگاہ میں بھی ایسی حالت میں حاضر نہ ہوا جائے، بلکہ خوب پاک صاف ہو کر حاضر ہونا چاہئے ، اس لئے کپڑوں کو صاف رکھنے کے لئے کام کرتے وقت اپرون (Apron) پہن لیا کریں اور اگر کپڑوں پر رطوبت لگ ہی جائے، تو حتی الامکان اسے دھو کر نماز پڑھا کریں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.