Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو کرتے وقت ٹپکتے ہوئے قطروں سے کپڑوں کو بچانا
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2023
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو کرتے وقت ٹیکتے ہوئے قطروں سے کپڑوں کو بچانے کا حکم کیوں دیا گیا ہے ؟ اس کے متعلق رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
وضو کرنے میں اعضائے وضو سے ٹیکنے والے قطرے چونکہ مائے مستعمل ہوتے ہیں اور مائے مستعمل کے نجس ہونے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے، اس لئے ان قطروں کو کپڑوں پر گرانے سے منع کیا گیا ہے ، اور اس بات کو آداب وضو میں سے شمار کیا گیا ہے کہ وضو کرنے والا اپنے کپڑوں کو وضو کے قطروں سے بچائے۔ البتہ یہ یادر ہے کہ صحیح و معتمند و مفتی بہ مذہب میں مائے مستعمل ناپاک نہیں، لہذا اعضائے وضو سے ٹیکنے والے قطرے کپڑوں پر گرنے سے کپڑے ناپاک نہ ہوں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.