Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سونا سستا خرید کر ادھار میں مہنگا بیچنا کیسا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے عمر و سے آٹھ لاکھ روپے میں سونا خریدا اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد زید نے وہ سونادو سال کے ادھار پر بارہ لاکھ روپے میں بکر کو دیا اور بارہ لاکھ روپے کی یہ رقم قسطوں میں ادا کر نا طے پایا۔ کیا یہ طریقہ جائز ہے ؟
Answer (beginning)
کرنسی کے بدلے سونے کی ادھار خرید و فروخت جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ قیمت طے ہو اور قیمت کی ادائیگی کی مدت بھی طے ہو۔ ادائیگی کی عام طور پر مختلف صورتیں ہوتی ہیں ایک صورت یہ ہے کہ کیش میں کوئی چیز بیچی جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ادھار میں بیچی جائے اور مقررہ مدت پر مکمل ادائیگی میکمشت کی جائے گی۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ادھار میں چیز نیچی جائے اور قیمت کی ادائیگی کو تقسیم کر دیا جائے یعنی مختلف قسطوں میں رقم وصول کی جائے، یہ تینوں صورتیں جائز ہیں۔ لہذا سوال میں بیان کی گئی صورت میں شرعا حرج نہیں۔ البتہ کسی بھی سودے کی جو عمومی شرائط ہیں ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.