Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے منہ سے سونےکا مصنوعی دانت نکالنا کیسا ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جون 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے اپنے منہ میں سونے کا مصنوعی دانت فکس لگوایا ہوا ہو اور اس کا انتقال ہو جائے تو وہ دانت نکالنا ہو گا یا ویسے ہی اس کو دفن کیا جائے گا؟ اور نکالے بغیر دفن کرنے میں مال کا ضائع کرنا تو نہیں پایا جائے گا؟ واضح رہے کہ وہ دانت آسانی سے نہیں نکل سکتا بلکہ اس کو آپریٹ ، چیر پھاڑ وغیرہ کے ذریعے ہی نکالنا ممکن ہوتا ہے۔ سائل : احمد بادی (گڑھی شاہولا ہور)
Answer (beginning)
میت کے منہ میں سونے کا مصنوعی دانت جو اس طرح فکس ہو کہ آپریشن، چیر پھاڑ یا میت کو اذیت و تکلیف دیے بغیر نکالنا ممکن نہ ہو تو اسے نہیں نکالیں گے بلکہ اس کے ساتھ ہی میت کو دفن کیا جائے گا کیونکہ عند الشرع مسلمان کی عزت و حرمت زندہ و مردہ برابر ہے اور مسلمان میت کے ساتھ کوئی ایسا عمل کرنا جس سے اسے اذیت و تکلیف ہو جائز نہیں ہے حتی کہ احادیث طیبات میں مردے کی ہڈی توڑنا اور اسے تکلیف پہنچانا، اس کی زندگی میں اس کی ہڈی توڑنے اور تکلیف پہنچانے کی طرح قرار دیا گیا ہے اور فکس دانت کو نکالنے کے لیے آپریٹ یا چیر پھاڑ کرنے میں بھی تکلیف وبے حرمتی ہے لہذا اسے بھی نکالنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.