Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض کی وجہ سے سعی میں تاخیر کرنے پر کفارہ لازم ہوگا؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک خاتون نے حج کیا، طواف زیارت کے بعد آرام کرنے کے لئے ہوٹل آئی، تو ہوٹل پہنچنے کے بعد اسے حیض آگیا، اس نے کسی سے مسئلہ پوچھا، تو بتایا گیا کہ ناپاکی کی حالت میں سعی کر نادرست نہیں ہے، لہذا وہ مکہ شریف میں ہوٹل میں ہی ٹھہری رہی، جب پانچ چھ دن بعد حیض سے پاک ہوئی، تو اس نے سعی کی اور اپنے وطن آگئی ، تو اس صورت میں کیا اس کا حج ادا ہو گیا اور سعی میں تاخیر کرنے کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم ہو گا ؟ طواف زیارت پاکی کی حالت میں ہی کیا تھا۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس خاتون کا حج (دیگر شرائط کی موجودگی میں ) ادا ہو گیا اور سعی میں تاخیر کرنے کی وجہ سے کوئی گناہ یا کفارہ لازم نہ آیا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ صفا و مروہ کے مابین سعی کرنا حج کے واجبات میں سے ہے ، لیکن حج کا یہ واجب غیر مؤقت ہے، یعنی اس کی ادائیگی کے لئے کوئی انتہائی وقت مقرر نہیں، لہذا جس طواف کے بعد سعی کر سکتے ہیں، اس طواف کے بعد کتنی ہی تاخیر ہو جائے ، یہ واجب ساقط نہیں ہو گا، حتی کہ اگر کسی نے مناسک حج ادا کئے اور سعی کئے بغیر اپنے وطن لوٹ آیا، پھر واپس جا کر سعی کرلی، تو اس کا واجب ادا ہو جائے گا، لیکن خیال رہے ! بلا عذر شرعی سعی کا ترک گناہ اور دم لازم ہونے کا سبب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.