Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک معروف کمپنی کی تجارتی ڈیل کا شرعی حکم
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مینو فیکچر کمپنی کیش پر کام کرتی ہے ، ادھار پر کام نہیں کرتی جبکہ ایک معروف سپر اسٹور کو ادھار پر سامان کی حاجت ہے ، اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ان دونوں نے درج ذیل طریقہ اختیار کیا ہے : ایک شخص بطور ڈسٹری بیوٹر مینوفیکچر کمپنی سے مال خرید کر شمن ادا کر کے قبضہ کرلیتا ہے (مینوفیکچر کمپنی کی طرف سے ڈسٹری بیوٹر پر کوئی شرط فاسد نہیں لگائی گئی ) پھر ڈسٹری بیوٹر مینو فیکچر کمپنی ہی کو اپنا وکیل مطلق بنادیتا ہے کہ مینو فیکچر کمپنی جسے چاہے یہ مال فروخت کر دے۔ پھر مینو فیکچر کمپنی بحیثیت وکیل اپنے مؤکل (ڈسٹری بیوٹر) کے مال کو مثلاً تین ماہ کے ادھار پر سپر اسٹور کو فروخت کر دیتی ہے، تین ماہ گزر جانے کے بعد سپر اسٹور سے وکیل کو پیمنٹ موصول ہوتی ہے جسے وصول کرنے کے بعد وکیل (مینو فیکچر کمپنی) اپنے مؤکل (ڈسٹری بیوٹر) کو پہنچادیتی۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ (1) کیا مذ کورہ طریقہ کار شرعی طور پر جائز ہے ؟ (2) نیز اس میں خدا نخواستہ سپر اسٹور کا نقصان ہو گیا یا دیوالیہ ہو گیا اور سپر اسٹور وکیل کو رقم لوٹانے سے عاجز آجاتا ہے ، رقم ادا نہیں کرتا تو یہ نقصان کون برداشت کرے گا؟ وکیل( مینوفیکچر کمپنی) یا موکل (ڈسٹری بیوٹر)؟
Answer (beginning)
(1) سوال میں بیان کی گئی صورت جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں تین الگ الگ معاملات ہیں : (1) ڈسٹری بیوٹر نے مینو فیکچر کمپنی سے مال خریدا، اس کی رقم ادا کر کے مال پر قبضہ بھی کر لیا، یہ معاہدہ مکمل ہو گیا اور کسی ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو نا بھی واضح ہے کہ سامان خرید نا بیچنا شرعاً جائز ہے۔ (2) مال خرید نے اور قبضہ کرنے کے بعد ڈسٹری بیوٹر نے مینو فیکچر کمپنی کو مال بیچنے کے لئے وکیل بنادیا، وکیل نے سامان بیچ کر ر قم مالک کو پہنچادی، یہ معاملہ بھی جائز ہے، جس میں کوئی ناجائز پہلو نہیں کیونکہ اپنامال وکیل کے ذریعے بکوا ناشر عاً جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.