Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے بعد امام اورمقتدیوں کاآپس میں مصافحہ کرنا
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازوں کے بعد امام اور مقتدیوں کا آپس میں مصافحہ کرنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
مصافحہ کرنا اصل کے اعتبار سے سنت ہے اور خاص نمازوں کے بعد مصافحہ کرنا جائز و مباح بلکہ ایک اچھا عمل ہے کہ مصافحہ کرنا بغض و کینے کو دور کرتا ہے اور محبت بڑھاتا ہے اور نمازوں کے بعد مصافحہ علماء، صلحاء اور عامۃ المسلمین اچھا سمجھ کر کرتے ہیں اور حدیث مبارک میں ہے کہ وہ کام جسے عامتہ المسلمین اچھا سمجھ کر کریں وہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ اور کتب فقہ میں جو نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے کو بدعت قرار دیا ہے، اس سے مراد بدعت سیئہ نہیں، بلکہ بدعتِ حسنہ ( یعنی وہ نیا کام جو قرآن و سنت کے خلاف نہیں) یعنی اچھی بدعت ہے جو کہ شر عائذ موم نہیں، بلکہ اگر اس کام کو عامتہ المسلمین اچھا سمجھ کر کریں تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.