Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکام میں آنکھ سے پانی نکلنے سے وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بعض اوقات سخت زکام میں آنکھ سے پانی نکلنا شروع ہو جاتا ہے ، کیا اس سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا ؟
Answer (beginning)
زکام کی وجہ سے آنکھ سے جو پانی نکلتا ہے ، اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا ، یہی حکم آنکھوں میں تیز ہوا لگنے یا رونے کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا ہے، یعنی اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ آنکھ سے نکلنے والے اس پانی سے وضو ٹوٹتا ہے، جو آنکھ میں درد یا بیماری کی وجہ سے نکلے اور اس سے وضو ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں خون اور پیپ وغیرہ نجاستوں کی آمیزش کا ظن (گمان) ہوتا ہے ، اس لئے احتیاطاً اس سے وضو ٹوٹنے کا حکم دیا گیا اور زکام، تیز ہوا لگنے یا رونے کی وجہ سے نکلنے والے پانی کا معاملہ ایسا نہیں، لہذا اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.