Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج بدل کون کرواسکتا ہے ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کے پاس اتنی رقم تقریباً چار پانچ سال سے موجود ہے کہ جس سے وہ حج کر سکیں اور اُن پر حج فرض تھا، مگر ابھی تک انہوں نے حج نہیں کیا اور اب اُن کی عمر تقریباً 70 سال ہے اور شوگر، بلڈ پریشر اور ٹانگوں کے درد کی وجہ سے زیادہ پیدل نہیں چل سکتے ،البتہ تھوڑی دیر چل سکتے ہیں اور خود سے سواری وغیرہ پر بھی بیٹھ سکتے ہیں، تو کیا وہ اپنی طرف سے حج بدل کروا سکتے ہیں یا ان پر خود حج کرناضروری ہے؟
Answer (beginning)
جان بوجھ کر بغیر کسی شرعی عذر کے فرض حج کو ایک سال تک مؤخر کرنا گناہ صغیرہ اور چند سال تک تاخیر کرنا گناہِ کبیرہ ہے، لہذا اس تاخیر پر تو بہ کی جائے۔ جب حج ادا کرنے پر قدرت ہو اور دیگر تمام شرائط موجود ہوں تو فور یعنی اسی سال حج کی ادائیگی فرض ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فرض حج ادا کرنے میں جلدی کیا کرو، کیونکہ تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ بعد میں اُسے کیا د شواری لاحق ہو جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.