Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کےدوران ، نماز کا وقت ختم ہوجائے تو ؟
- Issued
- ماہنامہ فیضانِ مدینہ دسمبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی شخص نے نماز ظہر یہ سمجھ کر شروع کی کہ ابھی وقت باقی ہے، لیکن نماز پڑھنے کے بعد پتا چلا کہ وقت تو ختم ہو چکا تھا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں جو نماز ظہر ادا کی گئی، کیا وہ نماز ادا ہو گئی ؟ یا پھر اس نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا ؟ ؟ راہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر تو اس شخص نے نماز ظہر وقت میں شروع کی تھی مگر سلام پھیر نے سے پہلے ہی نماز کا وقت ختم ہو گیا، تو اس صورت میں وہ نماز ظہر ادا ہو گئی، کیونکہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق فجر ،جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر نمازوں میں اگر نمازی وقت کے اندر تکبیر تحریمہ کہہ لے، تو اس کی وہ نماز ادا ہو جائے گی۔ البتہ اگر اس شخص نے نماز ہی وقت ختم ہونے کے بعد شروع کی تھی اگر چہ اس کے اپنے خیال میں نماز کا وقت ابھی باقی تھا، تو اس صورت میں بھی اس کی وہ نماز ظہر درست ہی ادا ہو گی کہ قضا نماز ادا کی نیت سے اور اد انماز قضا کی نیت سے بھی ادا ہو جاتی ہے ، جیسا کہ فقہائے کرام نے اس بات کی صراحت…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.