Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مضارب کا ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ کرنا کیسا ؟

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے کچھ رقم بطور مضاربت بکر کو دی۔ بکر نے اس رقم سے کام شروع کیا اور ضرورت کی بنیاد پر کچھ ملازمین بھی رکھ لئے۔ بکر کا ارادہ ہے کہ وہ ان ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دے ،لیکن وہ زید کو بتانا نہیں چاہتا، کیونکہ بتانے کی صورت میں زید اجرت بڑھانے سے منع کر دے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بکر کو شرعی طور پر یہ اختیار ہے کہ وہ زید کو بتائے بغیر اپنے ملازمین کی تنخواہیں بڑھادے؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت شرعی طور پر مضاربت کی بنتی ہے۔ جس میں زید کی حیثیت رب المال اور بکر کی حیثیت مضارب کی ہوتی ہے۔ عقد مضاربت سے مضارب کو جن کاموں کی اجازت ملتی ہے ، ان میں سے ایک کام اجارہ بھی ہے یعنی حسب ضرورت مضارب اپنے لیے ملازمین بھی رکھ سکتا ہے اور مارکیٹ کے مطابق ان کی اجرت بھی طے کر سکتا ہے۔ لہذا اگر بکر اس بات کی حاجت محسوس کرتا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہیے ، تو کر سکتا ہے، لیکن اتنازیادہ اضافہ نہ کرے کہ جس سے بہت زیادہ نقصان پہنچے۔ اگر مارکیٹ کے عرف سے ہٹ کر بہت زیادہ اجرت میں اضافہ کرے گا تو اس پر تاوان لازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.